ہجر کی شب ذرا ڈھلی سی ہے
وصل کی بات کُچھ چلی سی ہے
ہے خبر گرم اُس کے آنے کی
آج محفل میں کھلبلی سی ہے
اُس کے تیور ہوں یا ہوا کا رُخ
کب بدل جائیں بےکلی سی ہے
موسمِ گُل کی مدھ بھری شوخی
اُس کی آغوش میں پلی سی ہے
اُس کی سیرت سے کیا ہمیں لینا
اُس کی صوُرت مگر بھلی سی ہے
میری شیرینی ءِ زُباں اُس کے
دہنِ شیریں سے کُچھ مِلی سی ہے
اُس کی آواز کے ہیں سُر سچے
اِک چٹک کر کلی کھِلی سی ہے
اُس کی میٹھی نظر کے کیا کہنے
جیسے مِصری کی اِک ڈلی سی ہے
اُس کی زُلفوں کے شام سائے میں
اُس کے رُخ کی سحر کھِلی سی ہے
شب کے نا آشنا اندھیروں میں
اُس کے ہونٹوں کی لو جلی سی ہے
اُس سے ٹکرا کے جب صبا آئے
اُسکی خوُشبو بھی صندلی سی ہے
راہ اُسکی بدل گئی ہو گی
ہر کلی آج ادھ کھِلی سی ہے
اُس نے گھر کے نشاں مِٹا ڈالے
اُس کے دِل میں مگر گلی سی ہے
خوُد تو وہ وجہِ بُت پرستی ہے
بُت شِکن ہے صفت ولی سی ہے
اُس سے یک طرفہ دِل لگانا حمید
یہ محبت میں دھاندلی سی ہے