ملازمت کے آغاز کے دنوں ہم تین دوست کراچی شہر میں آ مِلے تھے۔ تینوں کا میلان شعر و ادب کے حوالے سے مشترکہ تھا۔

میرے دوست عارف محموُد نے ایک مطلع وضع کیا اور ایک شعر دوسرے دوست الیاس تحسین نے تخلیق کیا۔

دونوں اشعار بہترین ہیں بلکہ الیاس کے شعر کو میں حاصِلِ غزل گردانتا ہوُں۔

باقی سات اشعار خاکسار نے پیش کیئے۔ برضائے الہیٰ عارف کا انتقال عین جوانی میں ہوگیا تھا۔

غزل پیشِ خدمت ہے۔



بیتے سمے تو آئیں گے شاید نصیب سے


ہم رو لیا کریں گے لپٹ کر رقیب سے


(عارف محموُد مرحوُم)



اِس زندگی میں کُچھ نہ ہو کُچھ نہ ہوا کرے


دیکھا کریں بس ان کو بٹھا کر قریب سے

 


نرمی کلی سے پھوُل سے خوُشبو، شفق سے لی


سُرخی حجابِ ناز کی، سُر اندلیب سے

 


دستِ شفا تو اب کے بھی آیا نہیں ہے راس


کُچھ کہہ دیا ہو جیسے اُنھوں نے طبیب سے


(الیاس تحسین)



کرتے ضروُر اُن سے گِلہ بے رُخی کا ہم


کیا کیجیئے کے اُن کے ہیں تیور عجیب سے



کُچھ دِن کے اقتدار پہ نہ کیجیئے گُھمنڈ


عزت سے پیش آئیے شہرِ غریب سے



مسجد میں بیٹھ کر جو سیاست کیا کرے


بچنا بڑا ثواب ہے ایسے خطیب سے



حدِ ادب کا پاس رہے گُفتگو میں دوست


کُچھ سیکھئے ادب کِسی شاعر ادیب سے



عشقِ بتاں میں دِل نہ سیاہ کیجئے حمیدؔ


روشن قلوُب کیجئے عشقِ حبیبؐ سے