مُسکان کے نام (۱۸ فروری ۲۰۲۲)

 


ملت کی نئی آن نئی شان بنی ہے


اُمت کیلئے قوتِ ایمان بنی ہے

 

 

وہ ماہ و مہر مشعلِ اذہان بنی ہے


ظلمت کیلئے نوُر کا طوفان بنی ہے

 

 

تحریر میں تقریر میں تدبیر میں اپنی


وہ معرکہ ءِ حق کی نگہبان بنی ہے

 

 

للکار لیئے ہونٹ پر اور ہاتھ اُٹھائے


باطل کیلئے خوف کا عنوان بنی ہے

 

 

شیطان کی یلغار کے آگے تنِ تنہا


وہ نعرہ ءِ تکبیر کی گردان بنی ہے

 

 

تکبیر کے ہتھیار سے پردہ ہے مسلح


اس لشکرِ جرار کی سلطان بنی ہے

 

 

یہ جسم کی مرضی سے کیا کرتے ہیں تحقیر


وہ روح کی تقدیس کا پیمان بنی ہے

 

 

منصف کو پس و پیش ہے انصاف کو لے کر


منصف کیلئے عدل کا میزان بنی ہے

 

 

حامی ہوں کے مصروف ہوں میدانِ عمل میں


وہ سب کیلئے دین کا فیضان بنی ہے

 

 

پاکیزگی ءِ حسن کو محجوُب سمیٹے


وہ بِنتِ حیا مایہ ء نسوان بنی ہے

 

 

اس اُمتِ لاچار کے محروُم لبوں پہ


غائب تھی جو مدت سے وہ مسکان بنی ہے

 

 

انصاری کا ایقان ہے تائیدِ خدا سے


وہ غلبہ ءِ توحید کا وجدان بنی ہے