پڑی جب بھی نظر اُس خوُبصوُرت شوخ نٹ کھٹ پر
لگا جیسے چمکتا چاند ہے تاروں کے جھُرمٹ پر
تِرے دیدار کی دولت سے کیوں محروُم ہیں آنکھیں
بڑی مُدت سے دِل دھڑکا نہیں ہے تیری آہٹ پر
تِری آواز کے سُر کیوں نہیں گھُلتے ہیں کانوں میں؟
وہ کیا دِن تھے کہ سر دھُنتے تھے ہم اُس گُنگناہٹ پر
ترے قدموں تلے کِس کِس طرح روندا گیا ہو گا
نہ جانے کب سے میرا دِل پڑا ہے تیری چوکھٹ پر
شبِ تنہائی میں کیونکر ترا پہلوُ گُریزاں ہے
قرار آیا تُجھے کیسے مری بےچین کروٹ پر
محبت کا پڑاؤ چلتے چلتے آ کہاں پہونچا
ترے دامن کی سلوٹ سے ترے ماتھے کی سلوٹ پر
لُٹائی توُ نے غیروں پر شبِ جاناں کی شیرینی
ہمارا تو گُذارا ہے شبِ ہجراں کی تلچھٹ پر
دِلِ بسمل عنادل موسمِ گُل راہ تکتے ہیں
کہ سب قُربان ہونے کو ہیں تیری مُسکراہٹ پر
میں دِل سے کیوں نہ چاہوُں کاش وہ دِن لوٹ کر آئیں
کہ جب الھڑ جوانی تیری اٹھلاتی تھی پنگھٹ پر
لب و رُخسار و گیسوُ قد و قامت کیا قیامت ہے
عقل کیسے نہ ہو حیران خالق کی بناوٹ پر
حمید اِک ہوُک اُٹھتی ہے کبھی تاروں کی جھِلمِل میں
کہوُں کیوں نہ غزل آنکھوں کی تیری جِھلملاہٹ پر