ڈٹ گئے ہو جبر کے آگے شجاعت تُم سے ہے
تم سے روشن ہے وطن روشن صحافت تُم سے ہے
نہ ڈرے ہو نہ جھُکے ہو نہ بِکے ہو تُم کبھی
تُم سے ہے زورِ قلم جوشِ خطابت تُم سے ہے
لب دُریدہ ہوں کی پابندِ سلاسل ہو زُباں
پھِر بھی آنکھوں سے بیاں امرِِ صداقت تُم سے ہے
دِل کو چھوُتا ہے تُمھارا ہر بیاں صدیق جاں
جو خبر دیتے ہو خبروں کی ضمانت تُم سے ہے
تُم سے بیروُنِ وطن اہلِ وطن کا ہے وقار
تُم پہ نازاں ہے وطن حُسنِ سماعت تُم سے ہے
آئینہ تُم نے دِکھایا ہے اُنھیں اکثر سمیع
وہ نہ مانیں گے کبھی اتمامِ حُجت تُم سے ہے
تُم بھی کہہ دیتے ہو صابر پیار سے باریک بات
بد دیانت گر نہ سمجھیں پر دیانت تُم سے ہے
معرکہَ حق کی تُم اگلی صفوں میں ہو شہاب
فتح و نصرت تُم سے ہے خوُں میں حرارت تُم سے ہے
برسرِ پیکار تُم سہراب اہلِ شر سے ہو
خیر نِکلے گا اِسی شر سے علامت تُم سے ہے
بول بالا ہے تُمھارے کام کا طارق متین
بات میں سُلجھائو لہجے میں نفاست تُم سے ہے
ہے مدلل ہر تُمھاری پیشکش شہباز گِل
تُم بھی کُندن بن گئے ہو عزم و ہمت تُم سے ہے
سربکف ارشاد کر کے کھیلتے خطروں سے ہو
بزم کی رونق تُم ہی سے رزم شِدت تُم سے ہے
تُم جو کہتے ہو علی وہ قوم کی آواز ہے
درد ہے احساس ہے غیرت حمیت تُم سے ہے
حُبِّ پاکِستان کا تُم استعارہ ہو حبیب
ٹھیک پاکِستان ہو گا یہ اشارت تُم سے ہے
جائزہ لیتے ہو تُم باریک بینی سے جنید
راستہ مُشکِل سہی آساں مسافت تُم سے ہے
تُم سے قائم ہے ثمینہ سطوتِ حرف و بیاں
آبروُ تُم سے قلم کی استقامت تُم سے ہے
بارھا اُلٹائی پارس تُم نے جھوُٹوں کی بساط
جھوُٹ کے پروردہ ذہنوں کی خجالت تُم سے ہے
تُم ہو اِسمِ با مسّمیٰ صاحبِ عرفان ہو
تُم سے فیضِ آگہی نشر و اشاعت تُم سے ہے
تُم صدائے با صفا ہو معتبر آواز ہو
تُم وجاہت ہو کہ آہنگِ وجاہت تُم سے ہے
جب بھی حق کی بات ہو گی آئے گا ذِکرِ جمیل
اِک نویدِ صُبح روشن کی بشارت تُم سے ہے
عدل کا رِشتہ پُرانا جرأتِ عادل سے ہے
بزدلوں کے دِل پہ جو طاری ہے ہیبت تُم سے ہے
ضربِ حیدر سے ہے لرزاں وقت کا ظالم یزید
آج جو باطل پہ ٹوُٹی ہے قیامت تُم سے ہے
قارئین و سامعینِ حق رہیں تُم پہ نثار
جانثارانِ صحافت کی قیادت تُم سے ہے
علم و دانِش کا خزینہ ہو کہ تُم ہاروُن ہو
گوھرِ نایاب ہو رمزِ فصاحت تُم سے ہے
کاروانِ حق کے تُم سالار ہو مقبوُل جاں
تُم سے ہے فِکر و خِرد ردِّ جہالت تُم سے ہے
کِس قدر خوُبی سے تُم کڑیاں مِلاتے ہو معید
حاملِ وجدان ہو فہم و فراست تُم سے ہے
تجزیہ کاروں کے تُم سلطان ہو عمراں ریاض
جھوُٹ ہے تُم سے ہراساں سچ عبارت تُم سے ہے
تُم نے سینچا ہے گلستاں خوُن سے ارشد شریف
ہر دہکتے پھوُل کا رنگِ تمازت تُم سے ہے
قلب کی گہرائیوں سے عرض کرتا ہے حمید
یہ حکایت، یہ عنایت، یہ سعادت تُم سے ہے
ڈٹ گئے ہو جبر کے آگے شجاعت تُم سے ہے
تم سے روشن ہے وطن روشن صحافت تُم سے ہے