"عزیز دوست الیاس تحسین کے صاحبزادے خرم تحسین کی شادی کے مبارک موقع پر ۲۲ اگست ۲۰۱۵ کو پیش کِیا گیا"
کون آتا ہے سجا کر سرِ محفل سہرا
کر گیا کِتنی حسینائوں کو گھائل سہرا
آج کا چاند ہے روشن ترے چہرے کی طرح
ہے ترے عشقِ مجسم کا تسلسل سہرا
خوبرو ہو کوئی خرم کی طرح سامنے آئے
کہ غضب ڈھانے کو ہے مدِ مقابل سہرا
تُجھ سے مِلنے کو جو آتی تھی پری خوابوں میں
اس کی تعبیر مدیحہ ہے تو منزل سہرا
پھوُل بےچین چٹکنے کو ہیں کلیاں بیکل
دیکھ کر محوِ ترنم ہیں عنادل سہرا
کس متانت کا ذہانت کا ہے پیکرنوشا
پرتوِ پدر ہے وہ عکسِ شمائل سہرا
فخرِ تحسین بھی ہے لائقِ تحسین بھی ہے
جاں جاں لعل تبسّم کا ہے دل دل سہرا
ہو کوئی رنگِ حرا یا ہو ثمل کا انداز
فکرِ عیمہ تو ہے خرّم کے ہو قابل سہرا
تم سا رضوان و اسد یار ملا عبداللہ
اس نئے یار کی یاری کا ہے حامل سہرا
شان نیر کی بنا بازوئے فاران بنا
مان سدرہ کا بنا کر کے مکمل سہرا
آج دلہن کا کنارے پہ سفینہ پہونچا
اپنا دولھا ہے سمندر توہے ساحل سہرا
آنکھ نیر کی رواں اور تبسم کی بھی نم
اشک سہرے پہ گِرے اور گیا کھِل سہرا
تھام کے ہاتھ مدیحہ کا ہے خرم کی دعا
زندگی پیار بنے پیار کا حاصل سہرا
آئیے وقتِ وداع ہاتھ اُٹھائیں ہم بھی
تیری خوشیوں میں ہمیشہ رہے شامل سہرا