قطعہ

 


لذائذِ لبِ شیریں میں لمسِ لیلٰی میں


کہاں وہ بات فقط جو ترے خیال میں ہے


تری مٹھاس ترا رس تری جواں باتیں


کُچھ ان دنوں تو بڑی زندگی وبال میں ہے


خطاؤں کا یہ تسلسل گناہوں پہ اصرار


یقین کیوں نہیں آتا خُدا جلال میں ہے