نوحہ

 


ان کو افلاک سے اشارے تھے


چلدیئے وہ خُدا کو پیارے تھے

 


ایسے خوُش تھے پلٹ کے نہ پوُچھا


رہ گئے ہم جو غم کے مارے تھے

 


دل فگاروں ستم کے ماروں کے


وہ مسیحا بڑے سہارے تھے

 


ہم تو مقروض ان دنوں کے ہیں


تُم نے دُنیا میں جو گذارے تھے

 


قریہ   قریہ   محبّتیں   بانٹیں


کتنے اجڑے چمن سنوارے تھے

 


اہلِ دِل کیوں نہ پیروی کرتے


تُم سے علم و عمل کے دھارے تھے

 


تُم سے تھا نوُر میری صُبحوں میں


دِن میں خورشید رات تارے تھے

 


ہم تہی دامنوں کے درماں کو


اُس نے تُم سے ولی اُتارے تھے

 


ایک ہم تھے کہ جب جہاں سے چلے


کُچھ نہیں پاس تھا خسارے تھے

 


اپنے لمحوں کا جب حساب کیا


سب گُناہوں کے گوشوارے تھے

 


شمس و نوُر و نجم ہوُئے اوجھل


وہ اُجالے کبھی ہمارے تھے

 

 

 

مندرجہ بالا نوحہ اپنے تین بھائیوں مرحوُمیں


۔ نوُرالدین انصاری (انجینئر)


۔ نجم الدین انصاری (ڈاکٹر)


۔ شمس الدین انصاری (انجینئر)


کی یاد میں قلمبند کیا گیا۔ یہ تینوں بڑی برگزیدہ ہستیاں تھیں


سادگی، فراخدلی، حسنِ اخلاق کا مرقع اور انتہائی ہمدرد اور مخیّر تھے۔