وہ تو یوُں تختِ عروُسی پہ نظر آئی ہے
جیسے جنت سے کوئی حوُر اُتر آئی ہے
حُسن پھوُلوں کا سمیٹے لیئے کلیوں کا حجاب
وہ جو آئی ہے تو ہر چیز نِکھر آئی ہے
گل بداماں ہے درخشاں ہے شبِ نازِ عروُس
روشنی چاند سی دلہن کی بِکھر آئی ہے
پاک مریم کے تقدس سے ہے نسبت اس کو
ان کے معصوم حیا لے کے امر آئی ہے
اس نے خوابوں میں خیالوں میں سجایا ہے تُجھے
رنگ سارے تری تصویر میں بھر آئی ہے
رزم میں بزم میں ہر ساتھ نبھانے کیلئے
آہنی عزم لیئے سینہ سپر آئی ہے
ظلمتوں میں تری راہوں کو منور کرنے
اس کی آنکھوں کے اجالوں کی سحر آئی ہے
اپنی شیرینی ءِ اطوار کا امرت لے کر
پیار دینے کیلئے شیر و شکر آئی ہے
اس کے سنگ کوئی تہی دامنِ دانش نہ رہا
وہ جب آئی ہے ذہانت کو عمر آئی ہے
روُحِ محفل بھی وہی رونقِ محفل بھی وہی
تیرگی چھٹ گئی وہ مِثلِ مہر آئی ہے
اس کے خوابوں کی امنگوں کی حفاظت کرنا
بڑی امید لیئے تیرے نگر آئی ہے
نصف بہتر ہی سہی پیکر بے عیب نہیں
لے کے راہوں پہ تری راہِ خضر آئی ہے
بخش دینا جو کوئی اس سے خطا ہو جائے
وہ تو آخر ہے بشر بن کے بشر آئی ہے
آنکھ نمناک ہوُئی دِل گیا پہلوُ سے نکل
زندگی کونسی اس بار ڈگر آئی ہے
ہیں اُدھر اشکِ مِلن اور اِدھر اشکِ وداع
دونوں اشکوں کے جِلو میں شبِ تر آئی ہے
رخصتی کر کے ہوئی چشم براہ عائشہ
والہانہ سے اِدھر آئی اُدھر آئی ہے
ارسلان اور حسن اور علی اور آدم
سب ہی حیران ہیں کیا دِل پہ گذر آئی ہے
آج شاھین نظر کیوں نہ اُتاریں اس کی
اُن کی جو کھوئی تھی واپس وہ نظر آئی ہے
کیوں کریں اپنی مسرت کا نہ اظہار اسلم
لے کے شب ان کی ریاضت کا ثمر آئی ہے
سرخ رو ہو کے خوُشی اپنی چھُپاتا کیوں ہے
تیری دیرنہ تمنّا تھی کہ بر آئی ہے
تیری دہلیز پہ آئی ہے سِمونا چل کر
روشنی تیرا مقدر ترے گھر آئی ہے
ہاتھ دے کر ترے ہاتھوں میں سِمونا کا سعد
زندگی عہدِ وفا لے کے سنور آئی ہے
توُ جہاں بھی رہے آباد رہے شاد رہے
عرش کو چھوُ کے دُعا لے کے اثر آئی ہے