خوُش ہیں سب لوگ بندھا ہے تِرے سر پر سہرا
جلوہ گر چاند فلک پر ہے زمیں پر سہرا
یاسمیں اور گُلِ لالہ کے حسین پھوُلوں کا
سج گیا ہے رُخِ دوُلھا پہ یہ گُلبر سہرا
مُسکراہٹ لبِ نوشا پہ ہے رقصاں دیکھو
کیوں نہ پیار آئے کِسی کو تِرا چھوُ کر سہرا
سرخ رو ہے تری سج دھج پہ شبِ ماہِ عروُس
رنگ میں نوُر میں خوُشبو میں ہے مضمر سہرا
آج کِس دھوُم سے نِکلی ہے علی کی بارات
آج دِل تھام کے دیکھو ذرا بڑھ کر سہرا
عشق والوں کی سند مسندِ نوشا ٹھہری
حُسن والوں کی اداؤں کا ہے محور سہرا
چٹکیاں لیتی ہیں سہرے کی چٹک کر کلیاں
دِل کو چھوُ لیتا ہے ھر دِل میں اُتر کر سہرا
آج کلیوں کو نہ ہے چین نہ پھوُلوں کو قرار
کلیاں دُلہن پہ ہیں دولھا پہ نچھاور سہرا
کیا ہی پیاری ترے سہرے کی ہے خوُشبوئے گُلاب
تیرا سہرا تو ہے سہروں کا بھی افسر سہرا
کھِل کے گُل دامنِ دُلہن سے مہک لیتے ہیں
دوُلھا ہنستا ہے تو کرتا ہے منور سہرا
یوں کن اکھیوں سے جو دیکھا تو بھلا کیا دیکھا
دیکھو دِل بھر کے نظر بھر کے عمر بھر سہرا
آج کیوں لاج نہ آئے تری دُلہن کو مگر
دیکھتی وہ بھی ہے گھوُنگٹ کو اُٹھا کر سہرا
ارسلان و حسن ایمان و عمر ہیں رقصاں
کیوں نہ اترائے سِمونا تِرا گا کر سہرا
دُرِّ شہوار کی جاں اور قرۃالعین کا دِل
جان و دِل تیری نذر صاحبِ دِلبر سہرا
نیّرہ نائمہ زینب ہوں کہ مہریں فریال
ان کے ہاتھوں کی حنائوں سے ہے احمر سہرا
سعدیہ اور ثناء اور فرح اور شمع
بقعہء نود بناتی ہیں سراسر سہرا
ماریہ عائشہ اسماء ہوں کے نازش و عروج
پیار کے ان کی مہک سے ہے معطر سہرا
ناز اُٹھاتی ہیں بہت عالیہ، شہلا و سبین
چاہتیں ایسی ہی کرتی ہیں مسخر سہرا
رنگِ ثمرہ بھی یہاں نغمہ ءِ سارہ بھی یہاں
پھِر ترنم سے پڑھا جائے نہ کیونکر سہرا
زیبا شیما ہوں کہ عظمیٰ ہو کہ سیمی و صبا
مانگ افشاں کی سجائیں رہِ منظر سہرا
تری محفل میں ہما اور سرِ محفل انجم
کیا تب و تاب ہے کیا شانِ مقدر سہرا
ساری بہنیں ہیں کہ بھابھی کے لیئے چشم براہ
منتظر بھائی کہ کب ان کے ہو سر پر سہرا
لبنیٰ حمری بھی ہمہ وقت وہاں پا بہ رکاب
پاس آنے کو ہیں پلکوں پہ سجا کر سہرا
پیار و ایثار کے شاہکار ہیں بشریٰ عادل
جِن پہ خوُد آپ قدم بوس ہے جھُک کر سہرا
مامی ماموں ہوں کہ خالہ ہوں کہ تائی تایا
سب کی شفقت کا محبت کا ہے مظہر سہرا
تم نے اس شام کی اوقات بنا دی ہے عظیم
دامے درمے سُخنے تُم پہ نچھاور سہرا
وصفِ شاہین مِلے جذبہءِ اسلم ہو عطا
اور پرواز کا ہو جائے گا خوگر سہرا
جن کے دم سے ہے معزز شبِ تقریبِ سعید
دست احمد کو ہوا چھوُ کے قد آور سہرا
فرش پر عرش کے نظارے اُٹھا لائے ہیں
یوُں ہے کہ شمس کھڑے ہیں پسِ منظر سہرا
توُ ہے خوُش بخت تُجھے تحفہءِ آزاد مِلا
بڑی پھوُپھی نے دعا دی ہے نذر کر سہرا
فرطِ جذبات سے مغلوُب ہیں زہرہ پھوُپھی
صدقے واری ہیں وہ سینے سے لگا کر سہرا
آنکھ اوجھل ہی سہی دِل میں فروزاں ہے وہ نوُر
جِس کی کرنوں کی دمک سے ہے منور سہرا
حافظ ارشاد سُنیں اور کہیں احسان احمد
کیوں بغلگیر نہ ہوں سُن کے سُنا کر سہرا
نانی دادی نے بھی دولھا کی بلائیں لے لیں
دِل سے آنکھوں سے کلیجے سے لگا کر سہرا
نوُر امی کی نگاہوں کا ہے ابوُ کا غرور
توُ دعائوں کا ہے محور ترا منبر سہرا
رحمتیں رب کی تُجھے حفظ و اماں میں رکھیں
روشنی گھر کی کرے اور اُجاگر سہرا
توُ جہاں بھی رہے آباد رہے شاد رہے
کامیابی کا سدا تیرے سجے سر سہرا
سُن کے سہرا ترا اربابِ وفا جھوُم اُٹھے
واہ کیا بات ہے کیا خوُب مکرر سہرا